11 lines · 130 words · 0:47 read aloud
اصل امیری
ایک مغرور بادشاہ نے ایک صوفی سے پوچھا: اصل امیری کیا ہے؟
صوفی نے کچھ نہ کہا۔ اس نے بس ایک روٹی اور مٹی کا پیالہ سامنے رکھ دیا۔
بادشاہ ہنسا اور بولا: میرے خزانے میں سونا ہے، روٹی کی کیا اوقات؟
صوفی مسکرایا اور بولا: تو آج رات سونا ہی کھا لیجیے۔
اسی وقت محل کے دروازے پر ایک بھوکا بچہ رونے لگا۔
بادشاہ نے سونے کا سکہ بڑھایا، مگر بچہ سکہ تو نہیں کھا سکتا تھا۔
بادشاہ نے روٹی اٹھائی، اسے آدھا کیا اور بچے کو دے دیا۔
بچہ مسکرا اٹھا، اور بادشاہ کا دل بھر آیا۔
صوفی نے کہا: امیر وہ نہیں جس کے پاس زیادہ ہو۔
امیر وہ ہے جس کے پاس دینے کو کچھ ہو۔
اس رات بادشاہ کو برسوں بعد سکون کی نیند آئی۔



